بچپن کی یادیں
Poet: Haya Ghazal By: Haya Ghazal, Karachiوہ بچپن کی یادیں
وہ چھوٹی سی باتیں
بھلائیں نہیں بھول پائیں گے دن وہ
وہ معصوم سی کرنا کوئ شرارت
پھر چھپنا ماں کے آنچل میں جاکر
وہ بارش کے پانی میں ناؤ بہانا
کبھی کھیلنا، کبھی لڑنا جھگڑنا
پھر سب بھول کے دوستی پھر سے کرنا
وہ منوانا رو کے اپنی ضدیں ساری
مہربان وہ مری پیاری سی دادی
راتوں کو سننا کہانی وہ ساری
ہر روز سیکھنا بڑوں سے اچھی سی باتیں
وہ میٹھے سے دن اور مہربان راتیں
وہ کندھے پہ ڈالے چھوٹا سا بستہ
وہ دن پہلا.......
اسکول کا پیدل کا رستہ
بابا کی انگلی پکڑ کے وہ جانا
وہ چوکھٹ سے الوداع ماں کا کہنا
مہربان استاد کی شفقتیں وہ
سبق کچھ نئے اور نئ نصیحتیں وہ
چھٹی کی بیل پر بے تحاشہ بھاگنا وہ
گھر آکے پھر ماں کو سنانا وہ قصے
عہد کرنا ہم بھی بنیں گے کچھ اک دن
ذہن میں بنانا مستقبل کے منصوبے سارے
پھر اک دن گیا کھو وہ بچپن ہی سارا
بھلایا وہ سب سیکھا بچپن میں تھا جو
جوانی نے اپنا سر جب اٹھایا
وہ معصوم سی چھن گئیں خوشیاں ساری
سبق بھول بیٹھا محبت کے سارے
پھر نفرت کا پرچار کرنے لگا وہ
الگ ہی پھر ڈھنگ سے جینے لگا وہ
غلط جینے کا ڈھنگ بہت دکھ بھی لایا
کبھی ہنستا تھا جو زندگی نے رلایا
بڑی دیر سے پر سمجھ اسکو آیا
ضرورت ہے آج کی ہم کو ہوگا سنبھلنا
جو سیکھا تھا پہلے عمل اس پہ کرنا
یہ آہیں، سسکیاں اور رستے ہوئے دکھ
یہ سناٹے راتوں کے،سنسان سے رستے یہ سارے
یہ بستے گھروں میں پھیلتی ویرانیاں پھر
بدل جائیں گیں .......
چہرے ہنسنے لگیں گے
سکھایا جو رب نے وہ پھر عام ہوگا
چھٹیں گے اندھیرے اجالا بھی ہوگا
یہ دنیا پھر سے بن جائے گی جنت
انسان میں جاگے گی انسانیت
ہمیں پھر بچپن میں جانا پڑے گا
ہمیں پھر سے بچپن کو جینا پڑے گا
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






