بھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گی
Poet: اسماعیل By: اسماعیل, Daduبھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گی
بہت روئی ہیں یہ آنکھیں نظر کیسے ملاؤں گی
تو سوچوں کی زمیں کے راستے تبدیل کر بیٹھا
میں عجلت میں نشان بندگی کیسے مٹاؤں گی
مری اس درد کی دنیا پہ مت کر سنگ باری تو
بھلا میں بے بسی کے زخم اب کیسے چھپاؤں گی
وہ ٹوٹا آئنہ دل کا تو میں نے روک لیں سانسیں
اٹھے گی درد سینے میں تو پھر کیسے بتاؤں گی
جدائی کی خلش پائی ملا مجھ کو وصال غم
انا کی جنگ جیتی بھی وفا کیسے نبھاؤں گی
چلے ہیں قافلے یادوں کے ویرانوں کی بستی میں
بنا تھا ہم سفر تو بھی تجھے کیسے بھلاؤں گی
بڑھیں ہیں وحشتیں موسم کی ایسے روگ بھی پالے
بہار آرزو کرنے دوبارہ کیسے آؤں گی
More Sad Poetry






