بہت آئیں گے سمجھانے نہ رونا

Poet: مظہر اقبال سمر By: مظہر اقبال سمر, Sattarpura-Kharian city

بہت آئیں گے لوگ سمجھانے نہ رونا
بناتے ہیں سب ہی افسانے نہ رونا

وہ آزما کر بھی راضی نہیں ہے
جو ہم بھی لگے آزمانے نہ رونا

بہت بیتاب ہونگے آنکھوں میں آنسو
مگر تم کسی بھی بہانے نہ رونا

پی کر جام فرقت ہم جا رہے ہیں
ساقی تم نہ رونا مےخانے نہ رونا

بہت ہنس لئے تم اب جا رہا ہوں
ہمیں یاد کر کے زمانے نہ رونا

چلن ہے یہاں کا سب ساتھ چھوڑیں
جو ٹوٹے یارانے پرانے نہ رونا

میں برسوں سے پیاسا اور ہیں چند قطرے
میرے لب پہ آ کر پیمانے نہ رونا

جس راہگزر پہ چلا ہے تو مظہر
کٹھن تو ہے پر دیوانے نہ رونا

Rate it:
Views: 14969
15 Feb, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL