بہت اذیت ناک ہوتا ہے
Poet: افتخار By: Balaj, Karachiبہت اذیت ناک ہوتا ہے
کسی کے پاس وہ دیکھنا جو آپ سے چھینا گیا ہو
تیری ایک جھلک کو ترس جاتا ہے دل میرا
قسمت والے ہیں وہ لوگ جو روز تیرا دیدار کرتے ہیں
یہ ساولی رنگت یہ سادہ سا ہولیہ یہ اداس آنکھیں
ہم سے کوئی جو دل لگائے تو کیوں لگائے
کیسے کریں ہم خود کو تیرے پیار کے قابل
جب ہم عادتیں بدلتے ہیں تم شرطیں بدل لیتے ہو
وہ منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے۔
جو اس کا ہوتا ہے سمجھو وہ غلام ہوتا ہے
کسی کا ہوکر دوبارہ نہ آنا میری طرف
محبتوں میں حلالہ حرام ہوتا ہے
آج اشکوں کے تلے شجر تیرے شہر جلائیں جائے
اور غم پرانے جتنے بھی ہیں سب بھلائے جائیں گے
اور میں سوچتا ہوں کہ تجھ میں کیا بچے گا
بچے گا کیا تجھ میں جب تم سے ہم گھٹائیں جائیں گے
میں جس کے عشق میں کافر ہوا
وہ کسی اور کی خاطر مسلمان ہوگیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






