میں تنہائی کو تنہائی میں تنہا کیسے چھوڑ دوں

Poet: اشہد By: Maaz, Islamabad

!میں تنہائی کو تنہائی میں تنہا کیسے چھوڑ دوں۔۔۔۔”
“تنہائی نے تنہائی میں میرا بہت ساتھ دیا ہے

‏ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺮ، ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻼ
“…ﺗﯿﺮﺍ ﻭﺟﻮﺩ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮈﮬﻮﻧﮉتے ڈھونڈتے

چار دن آنکھ میں نمی ہو گی۔۔۔۔”
“ہم مر بھی گئے تو کیا کمی ہو گی۔۔

دیکھنے کو سارا عالم بھی کم ہے۔”
“.چاہنے کے لیے ایک چہرہ بہت۔۔

مسکرانے سے شروع اور رلانے پہ ختم”
“یہ اک ظلم ہے جسے لوگ محبت کہتے ہیں

تو مجھے چھوڑ کے جانے لگا تو یقین آیا ہے”
“سانسوں کے سوا کچھ بھی تو ضروری نہیں ہوتا

یاد اس کی ابھی بھی آتی ہے”
“بری عادت ہے،کہاں جاتی ہے

کبھی پاس بیٹھو تـــو بتائیں کہ درد کیا ہے”
” یوں دور سے پوچھو گے تو خیریت ہی بتائیں گے

ضبط کی آخری منزل پہ کھڑا شخص ہوں میں”
”…اس سے آگے میری آنکھوں نے پگھل جانا ہے

انتظار تھا ہم کو جن کا برسوں سے”
“وہ آئے تو تھے مگر بچھڑ جانے کے لیے

Rate it:
Views: 1521
05 Aug, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL