بے ثباتی
Poet: رفیع خان By: Rafi khan, Peshawarذرا ایک بار پھر سے دیکھو
بے کراں آسمان کی وسعتوں میں
ظلمت شب کے ہاتھوں بجھتے ستارے
زندگی کی بے ثباتی کا احساس جگا رہے ہیں
اور بتا رہے ہیں کہ ہم
جو ایک دوسرے کو بے انتہا چاہتے ہیں
انقریب ایک دوسرے کو کھو دیں گے
میں سوچتا ہوں
ہماری غیر موجودگی میں یہ دنیا کیسی لگی گی
کرہ ارض پر یہ ہمارا پہلا اور آخری جنم ہے
یہ حقیقت
زندگی تمہارے ساتھ جینے کے لئے ناکافی ہے
یہ بھی ایک حقیقت ہے
لیکن اس سے بھی کربناک حقیقت یہ ہے کہ
ہم مرجائیں گے اور پھر کبھی نہ مل پائیں گے
تو پھر کچھ بھی سوچے بغیر، تھام لو میرا ہاتھ
اور لے چلو مجھے کسی پرسکون رستے پر
جہاں کچھ دیر کے لیے ہی سہی
ہم ایک دوسرے کی موجودگی کے احساس سے لطف اندوز ہوسکیں
لے چلو مجھے تخیل کے پار ، محبتوں کی اس دنیا میں
جہاں ہم لمحوں میں صدیوں کی خوشیاں سمیٹ سکیں
اے میرے وجود کے گم شدہ حصے
میں زندگی کے سب سے حسین لمحے میں
تمہاری روح میں تحلیل ہوکر مرنا چاہوں گا
اور یہی ابدیت ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






