بے یارو مدد گار ہوئے پھرتے ہیں
Poet: Sajid Bin Zubair By: Sajid Bin Zubair, Bahawalnagarبے یارو مدد گار ہوئے پھرتے ہیں
راہِ عشق میں یارو ہم خوار ہوئے پھرتے ہیں
کبھی چُوم کر سجائے جاتے تھے سَر آنکھوں پر
اَب گلی گلی بازار ہوئے پھرتے ہیں
تول دیا عِشق نے بے مُول کر کے
جیسے تکڑی تکڑی میں اَخبار ہوئے پھرتے ہیں
روز کھلتے ہیں گُل رنگ برنگے بہاروں میں
ہم ہیں کہ ہر موسم میں اَشکبار ہوئے پھرتے ہیں
میری عاجزی بھی کچھ کام نہ آسکی
ہم عاجز بندے مولا تیرے گنہگار ہوئے پھرتے ہیں
بَھٹکے ہوئے ہم صِراط مُستقیم سے
ہجرِ آتش کے اَنگار ہوئے پھرتے ہیں
یوں کھایا عشقِ دیمک نے دامن کو میرے ساجد
جزائے محبت میں پُر اِسرار ہوئے پھرتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






