محبت کے بعد
Poet: ماہم طاہر By: Maham Tahir, Karachiیوں رلاکر ہنسانے کی اجازت نہیں ہے
آ ج ان جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہے
مجھ سے دھڑکن کو جدا کرنے کی اجازت لیتے ہو
جاؤ تمھیں اس دل میں رہنے کی اجازت نہیں ہے
عمر تمام گزار ڈالی ہے پیچ راہ میں
کہ اب تو راہ ہموار بھی کرنے کی اجازت نہیں ہے
شکست بھی تھک کر حکم مجھے یوں دیتی ہے
کہ اب کوئی میدان ہارنے کی اجازت نہیں ہے
حقیقت زندگی پر غالب آ گئی ہے ایسے کہ
نیند میں بھی خواب سجانے کی اجازت نہیں ہے
ہم نے بعد طویل مدت کچھ دیے جلاکے رکھے ہیں
تو آ ج ابر کو برسنے کی اجازت نہیں ہے
داستان درد سن کر اب عاجز آ گئے ہیں ماہم
خبردار اک اور قصہ سنانے کی اجازت نہیں ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







