بےوفا!!!کون ہے۔۔۔؟
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں نے تمہیں نہیں بلایا تھا
نہ کوئی خواب دکھایا تھا
محبت کا گیت سنایا تھا
نہ وفا کا سنگیت سیکھایا تھا
میں تو سب سے الگ
بس اپنی ہی دنیا میں مگن
اپنی ذات کے حصار میں
دل کے دروازے مقفل کئے
آنکھیں موند کے بیٹھی تھی
یاد کرو کے تم نے ہی
دل کا در کھٹکھٹایا تھا
میرے پاس آ کر کے
دل نگری کو بسایا تھا
میری بے رنگ آنکھوں کو
رنگیں خواب دکھایا تھا
محبت کا گیت سنایا تھا
وفا کا سنگیت سیکھایا تھا
خواب دکھا کے
گیت سنا کے
وفا کے سب
انداز سیکھا کے
اب تنہا چھوڑے جاتے ہو
جاتے ہو اور جاتے ہوئے
مجھ پہ میرے چارہ گر!!!
بےوفائی کا الزام لگاتے ہو
مجھے کیا خبر تھی
محبت کی عطا کیا ہے
خواب کیا وفا کیا ہے
تم نے جو سنایا
تم نے جو سیکھایا
تم نے جو دکھایا
وہ خواب وہ گیت وہ سنگیت
میں نے اپنا لیا
تمہیں اپنا بنا لیا
میرے دل میں آ کے
مجھے اپنا بنا کے
میری ذات میں دخل دینے کے بعد
مجھے اپنی زندگی سے
بےدخل کئے جاتے ہو
مجھ پہ میرے چارہ گر !!!
بےوفائی کا الزام لگاتے ہو
تنہا چھوڑ کے جاتے ہو
جو تم نے کہا وہ مان لیا
سب کہا سنا سچ مان لیا
اب تم ببھی سب سچ مان ہی لو
جو میں کہا سب جان بھی لو
کچھ پل کے لئے بیتے لمحوں میں
مجھ میں خود کو پہچان بھی لو
دیکھو سوچو سمجھو تو سہی
اپنے دل سے پوچھو تو سہی
میری اپنی چاہت کا
محبت کا وفاؤں کا
پیمانہ کیا ہے تولو تو
پھر خود ہی فیصلہ کرو۔۔۔
بےوفا!!! کون ہے۔۔۔؟
بےوفا!!! کون ہے۔۔۔؟
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






