تاروں کی گونج

Poet: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottingham

اندھیروں میں لپٹا ہوا، اک خاموش آسمان،
جہاں تنہا چاند بھی رکھتا ہے اپنی آن۔
کروڑوں سال کی باتیں، ستاروں کی زبان میں،
کوئی سُنتا نہیں لیکن، ہے ہر سو یہ بیان۔

​ہماری زندگی بھی اک پل کا ہے لمحہ،
اُسی بے کراں وسعت میں، اک ٹوٹا ہوا قطرہ۔
مگر اس قطرے میں بھی، سمندر کا ہے احساس،
کہ روحِ کائنات کا ہے ہم سے گہرا رشتہ۔

​فلک سے دیکھتے ہیں جب، نیچے کی اس دنیا کو،
تو ہر بستی، ہر منزل، ہے اک بھولی ہوئی پہیلی۔
مسافر راہ میں گم ہیں، کہاں جانا، نہیں معلوم،
مگر اس جستجو میں ہی، ہر سانس ہوئی اکیلی۔

​جو لمحہ آج ہے حاصل، یہی ہے اصل حقیقت،
نہ ماضی کی قید کوئی، نہ کل کی کوئی وحشت۔
خدا کے نور کی پرچھائیں، ہمارے دل میں رہتی ہے،
یہی پیغامِ فطرت ہے، یہی ہے اصل کی نُصرت۔

Rate it:
Views: 46
12 Nov, 2025
More Sad Poetry