جس در گیا دعا کی تجھسے مل ہو جائے
اور یوں کہ آسمان و زمین ہل ہو جائے
اک پل میسر ہوجا ساری زندگی کے بدلے
پھر بے شک میرا یہ سینا بے دل ہو جائے
یہاں تک کہ فرشتوں کو بھی کہا میں نے
میری پاک محبت ہی میرا بسمل ہو جائے
وہ اگر طبیب بن کے ہو میرے پہلو میں
پھر شوق سے میرا ہر زخم چھل ہو جائے
پھر وقت با وقت سانس یوں بڑھے حازق
کہ دیکھتے دیکھتے منہ ِ زمانہ سل ہو جائے