تجھے پا کر جو کھویا تھا
Poet: Mohammed Naseem By: Mohammed Naseem, Muscatتجھے پا کر جو کھویا تھا تجھے کھو کر جو پایا ھے
وہ تیرے غم کی دنیا تھی یہ تیرے غم کی مایا ھے
بڑے ہی پر شکستہ غم زدہ دیکھے پرندے وہ
خدا کا رزق جن کو دور گھر سے کھینچ لایا ھے
چلو تم دور ہو ہم سے تو ہم بھی دور ہیں تم سے
مگر ان دوریوں نے ہی ہمیں جینا سکھایا ھے
تیرا ھر غم میری دولت تیری یادیں میری دنیا
میری ھر سانس تیری ھے،ھے سب تیرا جو پایا ھے
محبت کی یہ پھلواری یہ خوابوں کا مکاں اپنا
میں تیرے نام لکھتا ھوں جو سب میں نے کمایا ھے
میں دانے ان کو دیتا تھا وہ گاتی تھیں چہکتی تھیں
کہ جن چڑیوں کو میں نے باغ سے اپنے اڑایا ھے
دعائیں دیتی جاتی تھی وہ بڑھیا روتی جاتی تھی
کہ اس کے پیارے بیٹے نے علیحدہ گھر بسایا ھے
چلو گایں چلو جھومیں چلو ان کے قدم چومیں
کہ جن کے دم سے خوشیوں کا کوئی پیغام آیا ھے
پرندے چھوڑ کر اب آشیاں اپنا کدھر جایں
کہ سانپوں نے ھمارے باغ میں ڈیرہ جمایا ھے
نسیم صبح کے منظر سہانے ہم بھی دیکھیں گے
خدا نے موسموں کو بھی بدل جانا سکھایا ھے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






