تلاش اُس کی ہے مجھے جس کو کبھی دیکھا بھی نہیں
Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود, نوٹنگھمتلاش اُس کی ہے مجھے جس کو کبھی دیکھا بھی نہیں
خیال اُس کا ہے دل میں جسے کبھی سوچا بھی نہیں
میں اپنے خُدا سے اپنے لیے التجا کرتا بھی تو کیا کرتا
مجھے طلب بھی اُس کی ہے جس کو کبھی مانگا بھی نہیں
سُکوتِ دل میں میرے لیے اب یہ احساسِ زندگی بھی کیا ہے
قریب پاتا ہوں میں اُس کو جسے کبھی چاہا بھی نہیں
حساب مُجھ سے اب وہ کس کے لہُو کا مانگتے ہیں
وہ خُون ہے میرے ہاتھوں پہ جو کبھی بہا بھی نہیں
علاج اب مُجھ سے بھی ممکن نہیں ہے محبت کا مسعود
وہ زخم ہے میرے سینے پہ جو کبھی سہا بھی نہیں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






