تلخ تر پھر داستاں ہوتی گئی

Poet: Khalid ROOMI By: Khalid ROOMI, Rawalpindi

 تلخ تر پھر داستاں ہوتی گئی
ہر حقیقت جب عیاں ہوتی گئی

زندگی جب بیکراں ہوتی گئی
پھر محبت ناگہاں ہوتی گئی

راز دل کا جب بیاں ہوتا گیا
بے رخی درمیاں ہوتی گئی

دولت احساس جب بڑھنے لگی
آدمیت پھر جواں ہوتی گئی

ہر زمانے میں وفا کی داستاں
یوں ہی بے نشاں ہوتی گئی

بد نصیبی سے طلب کے باغ میں
ہر بہار اپنی خزاں ہوتی گئی

ہر جتن تسکین کا بے کار تھا
کاوش دل رائگاں ہوتی گئی

ہر زمانے میں سکون و درد کا
یہ غزل ہی ترجماں ہوتی گئی

یوں بسر کی رات تیرے ہجر میں
سانس بھی آہ و فغاں ہوتی گئی

حادثوں سے اس طرح دل بجھ گیا
آرزو رومی دھوں ہوتی گئی

Rate it:
Views: 572
07 Apr, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL