تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو

Poet: Sahir Ludhianvi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے میں نے تو محبت کی ھے

میرے دل کی میرے جذبات کی قیمت کیا ھے
الجھے الجھے سے خیالات کی قیمت کیا ھے
میں نے کیوں پیار کیا تم نے نہ کیوں پیار کیا
ان پریشان سوالات کی قیمت کیا ھے
تم جو یہ بھی نہ بتاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے ، میں نے تو محبت کی ھے

زندگی صرف محبت ھی نہیں کچھ اور بھی
زلف و رخسار کی جنت نہیں کچھ اور بھی ھے
بھوک اور پیاس کی ماری ھوئی اس دنیا میں
عشق ھی ایک حقیقت نہیں کچھ اور بھی ھے
تم اگر آنکھ چراؤ تو یہ حق ھے تم کو
میں نے تم سے ھی نہیں سب سے محبت کی ھے

تم کو دنیا کے غم و درد سے فرصت نہ سہی
سب سے الفت سہی مجھ سے ھی محبت نہ سہی
میں تمھاری ھوں یہی میرے لئے کیا کم ھے
تم میرے ھو کے رھو یہ میری قسمت نہ سہی
اور بھی دل کو جلاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے میں نے تو محبت کی ھے

تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
 

Rate it:
Views: 4264
30 Oct, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL