تم مِرے درد بھی، غم بھی ، مِرے آلام بھی تم

Poet: Wasi Shah By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

تم مِرے درد بھی، غم بھی ، مِرے آلام بھی تم
تم مِرا چین ہو جاناں، مِرا آرام بھی تم

کامیابی کو نہیں ہم نے تمہیں چاہا ہے
ہم تمہارے ہیں بھلے ہو گئے ناکام بھی تم

میں مسیحا ہوں اگر، میرا وظیفہ تم ہو
میں ہو مجرم تو مِری جاں مِرا الزام بھی تم

مختلف حیلوں بہانوں سے مجھے سوچتے ہو
ایک دن کُھل کے پکارو گے مِرا نام بھی تم

رات دن تم کو فقط تم کو مجھے سوچنا ہے
میری فرصت بھی تمہی اور مِرا کام بھی تم

جس سے روشن مرا آنگن ہے تمہی ہو وہ چراغ
سچ تو یہ ہے کہ تمہی گھر ہو دَر و بام بھی تم

یہ سیاست بھی عجب کھیل ہے بھولے پنچھی
یہاں صیّاد بھی تم ہو، تو تہِ دام بھی تم

Rate it:
Views: 1584
29 Sep, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL