تم کو کیا خبر جاناں
Poet: Sidra Subhan By: sidra subhan, Kohatتم کو کیا خبر جاناں
ہجر کی کہانیاں کسطرح سے چلتی ہیں
ہم تمہیں بتاتے ہیں
زندگی کے ساحل پر
دل کا کورا کاغذ ہے
جس میں تم سے کہنے کی وہ تمام باتیں ہیں
جنکو پڑھتے ہی جاناں
تم نے لوٹ آنا ہے
لیکن میرے چار سو بے پناہ اندھیرا ہے
کالی لمبی راتوں میں بجلیاں چمکتی ہیں
تیز دھار آندھی ہے
مایوسی کے بادل جب آندھیوں سے ٹکرا کر
ٹوٹ کے برستے ہیں
کہکشاں لرزتے ہیں
سارے لفظ گیلے ہیں
اور نظم پانی کی لہروں میں یوں چلتی ہے
جیسے موت کہ منہ میں زندگی مچلتی ہے
جیسے وحشت جاں سے سانس رک کے چلتی ہے
اب تمہی بتاؤ نا
کوئی کیسے سمجھے گا
پانی پانی لفظوں کو
گیلی گیلی سوچوں کو
اور کون جانے گا
ہجر کی کہانی میں اس چھپی اذیت کو
درد کی پناہوں میں اس دبی محبت کو
تم بھی کیسے جانو گے
میرے گیلے لفظوں کو
ہجر کی کہانیاں اسطرح تو چلتی ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







