درد آنکھوں میں بھر گیا شاید

Poet: Sidra Subhan By: sidra subhan, Kohat

درد آنکھوں میں بھر گیا شاید
کوئی دل سے اتر گیا شاید

حوصلے پست روح شکستہ ہے
تیر سینے میں گھڑ گیا شاید

اب تو آواز بھی نہیں آتی
اس قدر شور بڑھ گیا شاید

تیری باتوں کا زہر پی پی کر
درد شدت سے مر گیا شاید

یہ جو آنکھوں سے رنگ بہتا ہے
کوئی منظر ٹھہر گیا شاید

آج ان سرد مہر لمحوں پر
کوئی احسان کر گیا شاید

وہ جو لمحے سنبھال رکھتا تھا
اک گھڑی میں بکھر گیا شاید

ضبط موقعے پہ روز آتا تھا
آج....کچھ دیر کر گیا شاید

زندگی تیری ہمنوائی میں
کوئی قسمت سے لڑگیا شاید

بند کمرے میں چھپ کہ بیٹھا ہے
دل اب کی بار ڈر گیا شاید

اس قدر بندشیں ہیں سانسوں میں
کوئی جاں سے گزرگیا شاید

Rate it:
Views: 866
18 Jul, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL