تمہیں بتاؤں کہ کس مشغلے سے آئی ہے

Poet: کامران غنی صبا By: yasir, Abbottabad

تمہیں بتاؤں کہ کس مشغلے سے آئی ہے
مری نظر میں چمک رت جگے سے آئی ہے

خیال جیسے ہی آیا ذرا سا دم لے لوں
تو اک صدائے جرس قافلے سے آئی ہے

چمک رہی ہے جبیں نقش پا کی برکت سے
وہ بالیقیں ترے راستے سے آئی ہے

یہ کیا عجب ہے کہ مجھ کو ہی کچھ نہیں معلوم
جو میری بات ترے واسطے سے آئی ہے

تم اپنے جسم کی خوشبو سنبھال کر رکھنا
یہ بہکی بہکی صدا آئنے سے آئی ہے

بس اتنی ضد تھی مصلیٰ بچھا کے پینا ہے
پلٹ کے میری انا میکدے سے آئی ہے

جسے بھلائے زمانہ گزر چکا تھا صباؔ
اسی کی یاد بڑے ولولے سے آئی ہے

Rate it:
Views: 252
20 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL