تنہائی ہے

Poet: UA By: UA, Lahore

ویرانہ ہے سناٹا ہے رسوائی ہے تنہائی ہے
قسمت ہم کو کن راہوں سے ان راہوں پر لے آئی ہے

اب سے پہلے یہ دنیا ہم کو پھولوں جیسے لگتی تھی
نہ جانے کیوں کانٹوں کی مانند اپنے سامنے آئی ہے

کبا جانے کہ ان آنکھوں نے کس لمحے خواب سجائے تھے
اور کیا جانے ان آنکھوں نے کب اپنی نیند چرائی تھی

دل کی خاطر لب کھولے اور رسوائی اپنائی تھی
اب تیری خاطر تنہائی لے کر خاموشی اپنائی ہے

پھر ایسا ہوا کہ دنیا کی خاطر خود کو تنہا کر پیٹھے
لیکن خود کو تنہا کر کے بھی یاد تمہاری آئی ہے

تنہائی میں عظٰمیٰ تیری یادوں نے دل کو بہلایا ہے
تیری یادوں کے دیپ جلائے دل نے بزم سجائی ہے

Rate it:
Views: 661
17 Mar, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL