تو نے كيسے ضبط ميں جينا سيكھ ليا ھے
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreچھپ چھپ كر پتھروں سے باتيں كرنے والی
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے درد كو سہنا سيكھ ليا ھے
پتھروں كے سينے دكھ سے بھر كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے پتھر بننا سيكھ ليا ھے
آنسو پی كر پتھروں كو رلا كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے روگ ميں جينا سيكھ ليا ھے
تپتے صحراؤں كو گلشن دے كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے ريت پر چلنا سيكھ ليا ھے
سب كو تجديد-تعلق كا سبق سكھا كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے زخموں كو بھرنا سيكھ ليا ھے
دكھ ميں تيرے ساتھ جو نہ تھيں مورتيں
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے ان كی پرستش كرنا سيكھ ليا ھے
دكھوں ميں جلتی ہر پل مرتی
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے ضبط ميں جينا سيكھ ليا ھے
شور مچاتی سمندر كی موجوں ميں
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے سسكيوں كو دبانا سيكھ ليا ھے
بارش ميں بھيگتی آنسوؤں كو چھپاتی
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے كرب ميں جينا سيكھ ليا ھے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






