تو نے كيسے ضبط ميں جينا سيكھ ليا ھے
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreچھپ چھپ كر پتھروں سے باتيں كرنے والی
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے درد كو سہنا سيكھ ليا ھے
پتھروں كے سينے دكھ سے بھر كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے پتھر بننا سيكھ ليا ھے
آنسو پی كر پتھروں كو رلا كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے روگ ميں جينا سيكھ ليا ھے
تپتے صحراؤں كو گلشن دے كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے ريت پر چلنا سيكھ ليا ھے
سب كو تجديد-تعلق كا سبق سكھا كر
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے زخموں كو بھرنا سيكھ ليا ھے
دكھ ميں تيرے ساتھ جو نہ تھيں مورتيں
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے ان كی پرستش كرنا سيكھ ليا ھے
دكھوں ميں جلتی ہر پل مرتی
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے ضبط ميں جينا سيكھ ليا ھے
شور مچاتی سمندر كی موجوں ميں
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے سسكيوں كو دبانا سيكھ ليا ھے
بارش ميں بھيگتی آنسوؤں كو چھپاتی
اے معصوم سی لڑكی
تو نے كيسے كرب ميں جينا سيكھ ليا ھے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






