تو نے کیوں اپنی تمنا کا گلہ گھوٹ لیا؟
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachi(غربت کے ہاتھوں مجبور ماں سے یونیفارم کی فرمائش پوری نہ ہونے پر بچہ کی خودسوزی کے واقعہ پر)
میرے بچے تیرا اصرار میری آنکھوں پر
پر تجھے کیسے بتاتی کہ نئے کپڑوں سے
سلوٹیں حال ِ غریبی کی نہیں جا سکتی
تجھ کو یہ شوق کے اجلے سے نئے کپڑوں میں
روز ملبوس سویرے تو مدرسے جائے
تیری خواہش تھی کہ رنگوں سے مزین ہو لباس
تیری خواہش تو میرے چاند بجا تھی لیکن!
میں تجھے کیسے بتاتی کہ نئے کپڑوں کے
شوخ رنگوں میں تیری زرد سی رنگت بیٹا!
تیری حالت کا، غریبی کا پتہ دے دیگی
میں تھی مجبور، ڈر تھا کہ بتانے پہ تجھے
تیرے احساس جو کومل ہیں گلابوں کی طرح
ان حالات کی سختی سے کچل نہ جائیں!
تیری معصوم نگاہوں میں سجے سپنے سب
باعثِ حالِ غریبی مچل نہ جائیں!
دیکھو بچے میرے، اٹھ جائو، سنو بات میری!
میں نے سب بیچ کے رنگوں سے مزین کپڑے
تیری خواہش پہ خریدے ہیں بڑی چاہ کے ساتھ
مجھ سے کچھ بات کرو، دیکھ تو لو چاند میرے!
کیسے لگتے ہیں؟
بھلے ہیں یا برے لگتے ہیں؟
یہ جو کپڑے تیرے نازک سے بدن پر ہیں اب
تیرے خواہش کے مخالف ہیں، بہت سادہ ہیں
اٹھ بھی جائو نہ میری جان، بتائو مجھ کو،
تو نے کیوں اپنی تمنا کا گلہ گھوٹ لیا؟
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






