تو ہوتا ساتھ تو تمنائیں زندگی بھی کرتے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہماری زیست میں غموں کے سوا کچھ رہا نا باقی
خاموش ہوا ایسےجیسے درمیان کچھ رہا نا باقی
چاند ہر روز نکلتا رہا جھومتا رہا پر اب
اس میں دیکھنے کے لیے کچھ رہا نا باقی
بہاروں میں بھی کانٹے ملے ہمیں لگتا ہیں شاید
اس دنیا میں کانٹوں کے سوا کچھ رہا نا باقی
یوں تو چاروں طرف دلکش نظارے تھے ہمارے
پر تیرے بنا ان دلکش نظاروں میں کچھ رہا نا باقی
جاناں ! ریت کے محل تھے جو اک پل میں بکھر گئے
اب صرف ریت کے زرہ کے سوا کچھ رہا نا باقی
جاتے جاتے سب کچھ لے لیا ہم سے پر اب
پمارے پاس تیری یادوں کے سوا کچھ رہا نا باقی
آنکھیں تیری دید کے لیے جاگتی رہی رات بھر
پر اب ان میں فقط انتظار کے سوا کچھ رہا نا باقی
ہر روز تیرے لیے دروازہ کھلا رکھتے رہے ہم
پر اب ٹوٹی امید کے سوا کچھ رہا نا باقی
تو ہوتا ساتھ تو تمنائیں زندگی بھی کرتے
پر تیرے بنا ہمارے جینے میں کچھ رہا نا باقی
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






