تو ہوتا ساتھ تو تمنائیں زندگی بھی کرتے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہماری زیست میں غموں کے سوا کچھ رہا نا باقی
خاموش ہوا ایسےجیسے درمیان کچھ رہا نا باقی
چاند ہر روز نکلتا رہا جھومتا رہا پر اب
اس میں دیکھنے کے لیے کچھ رہا نا باقی
بہاروں میں بھی کانٹے ملے ہمیں لگتا ہیں شاید
اس دنیا میں کانٹوں کے سوا کچھ رہا نا باقی
یوں تو چاروں طرف دلکش نظارے تھے ہمارے
پر تیرے بنا ان دلکش نظاروں میں کچھ رہا نا باقی
جاناں ! ریت کے محل تھے جو اک پل میں بکھر گئے
اب صرف ریت کے زرہ کے سوا کچھ رہا نا باقی
جاتے جاتے سب کچھ لے لیا ہم سے پر اب
پمارے پاس تیری یادوں کے سوا کچھ رہا نا باقی
آنکھیں تیری دید کے لیے جاگتی رہی رات بھر
پر اب ان میں فقط انتظار کے سوا کچھ رہا نا باقی
ہر روز تیرے لیے دروازہ کھلا رکھتے رہے ہم
پر اب ٹوٹی امید کے سوا کچھ رہا نا باقی
تو ہوتا ساتھ تو تمنائیں زندگی بھی کرتے
پر تیرے بنا ہمارے جینے میں کچھ رہا نا باقی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






