تو ہوتا ساتھ تو تمنائیں زندگی بھی کرتے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہماری زیست میں غموں کے سوا کچھ رہا نا باقی
خاموش ہوا ایسےجیسے درمیان کچھ رہا نا باقی
چاند ہر روز نکلتا رہا جھومتا رہا پر اب
اس میں دیکھنے کے لیے کچھ رہا نا باقی
بہاروں میں بھی کانٹے ملے ہمیں لگتا ہیں شاید
اس دنیا میں کانٹوں کے سوا کچھ رہا نا باقی
یوں تو چاروں طرف دلکش نظارے تھے ہمارے
پر تیرے بنا ان دلکش نظاروں میں کچھ رہا نا باقی
جاناں ! ریت کے محل تھے جو اک پل میں بکھر گئے
اب صرف ریت کے زرہ کے سوا کچھ رہا نا باقی
جاتے جاتے سب کچھ لے لیا ہم سے پر اب
پمارے پاس تیری یادوں کے سوا کچھ رہا نا باقی
آنکھیں تیری دید کے لیے جاگتی رہی رات بھر
پر اب ان میں فقط انتظار کے سوا کچھ رہا نا باقی
ہر روز تیرے لیے دروازہ کھلا رکھتے رہے ہم
پر اب ٹوٹی امید کے سوا کچھ رہا نا باقی
تو ہوتا ساتھ تو تمنائیں زندگی بھی کرتے
پر تیرے بنا ہمارے جینے میں کچھ رہا نا باقی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






