توڑ جاتے ہیں کھلونا جان کر یہ دل ستمگر

Poet: UA By: UA, Lahore

توڑ جاتے ہیں کھلونا جان کر یہ دل ستمگر
کرتے ہیں دل پہ نئے وار مسلسل ستمگر

مجھے کہنے دو آج دل کی بات نہ روکو
دل کے سب زخم دکھانے سے مجھے نہ ٹوکو

ستم کر کے وہ ہر ستم سے ہی انجان رہتے ہیں
یہ ستم روز روز ہم بھی اپنی جان پہ سہتے ہیں

اشک آنکھوں میں رواں ہوں تونظر آتے ہیں
دل کا رونا ستمگر دیکھ نہیں پاتے ہیں

کبھی کبھی میرا چہرہ حسیں بناتی ہیں
کبھی کبھی تو میری آنکھیں مسکراتی ہیں

نہ جانے کیوں ستمگروں کو نہیں بھاتی ہیں
مسلتے ہیں میرے جذبات کو پل پل ستمگر

توڑ جاتے ہیں کھلونا جان کر یہ دل ستمگر
کرتے ہیں دل پہ نئے وار مسلسل ستمگر
 

Rate it:
Views: 1053
21 May, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL