تکلیف دہ یادیں
Poet: جاوید صدیقی By: جاوید صدیقی, کراچیوہ خود بنے بیٹھے ہیں خدا اپنی ہی سوچوں میں
کبھی جنرنیل تو کبھی سیاسی لیڈر کی شکلوں میں
غلط پالیسیوں کے سبب جھیلتی ہے تکلیفیں عوام
رہتے ہیں خودنمائی ،آرام و سہل کے محلوں میں
ایسی ہزاروں تاریخیں رقم ہوجائینگی یادوں میں
پر کسی امیر زادے کا بچہ نہ مرے گا اسکولوں میں
اس ملک میں طاقتور ہی اصل حقدر سمجھا جاتا ہے
غریب کی قسمت، امیر کےپاؤں کے تلوؤں میں
ریاست و حکومت جدا جدا چلتی ہیںاس ارض پاک میں
رخ بدل، سوچ بدل،احساس بدل ہےانکے ذہنوں میں
تقسیم کردیا ہے ریاست و حکومت کے ایوانوں نے
عوام بیچاری لاغر ہے ،قرض ا ور مہنگائی کے پہاڑوں میں
ہر کوئی لیئے پھرتا ہے لیڈر اپنے حسین و لاجواب منشور
نہ کیا کسی نےفلاح عوام اور نہ کریگا کوئی حقیقتوں میں
اے ریاض ! اسے میں بدقسمتی کہوں یا عوام کی بے حسی
کہ سب کے سب بنیں بیٹھے ہیں،عصبیت و تعصبوں میں
((نوٹ: شاعری میں اپنا نام ریاض استعمال کرتا ہوں ))
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






