تہمت لگائی ہے لگا نے دو دیانَت تھوڑی ہے
Poet: زاھید By: زاھید, karachiتہمت لگائی ہے لگا نے دو دیانَت تھوڑی ہے
وہ جھوٹ ہے اور جھوٹ میں ہوتی صداقَت تھوڑی ہے
اس میں کئی اور بھی مقاصدہیں چھپے ہو ئے ترے
دعویٰ ترا رستہ دکھانے کا عنایت تھوڑی ہے
تم سن سکو تومیں بیاں کردوں حقائق سب یہاں
سچ بول دوں سچ بولنا کوئی بغاوت تھوڑی ہے
جو بڑ ھے یا گر جو گھٹے تو پھر نہیں وہ سچ رہے
ہاں جھوٹ بڑ ھے یا گھَٹے اس کی ضمانَت تھوڑی ہے
سچ نفع یا نقصان اپنا تول کر مت بول تو
یہ سچ تمہارے باپ کی کوئی تجارَت تھوڑی ہے
احساس جن کو ہے نہیں سچ جھوٹ کا اپنے تو پھر
ان کو چلو میں ڈوبنے پربھی ندا مَت تھوڑی ہے
تم دھوکہ دے کر خو ش مت ہو دھوکہ واپس پلٹے گا
یہ دھوکہ آخر دھوکہ ہے کوئی کرامَت تھوڑی ہے
ہم آپ جیسا سوچ تے تھے پر وہاں ہے کچھ نہیں
ہم کو ملی یہ آج بھی سچی قیادَت تھوڑی ہے
تم دوسروں کی مت سنا وہ تو پتھر ہیں پوجتے
حالات کی ہر ایک کو اتنی بصارَت تھوڑی ہے
ناراض مت ہو ہم سے تم اے بے خبر کچھ تو سمجھ
جو جانتے ہیں سو کہا دل میں عداوَت تھوڑی ہے
اب کھو نے کا اور پانے کا ہے غم کسے تو مت ڈرا
تو کر گذر معلوم ہے تجھ میں شجاعَت تھوڑی ہے
آئینگے سچ بو لنے والے مِرے ہاں بعد بھی
سچ پولنے کی آخری میری جسارَت تھوڑی ہے
ہاں دھوکے کھا کر بھی یہ زاہد چپ رہا ہے کس قدر
سچ بات ہوں کہتا رہی ان میں عدالت تھوڑی ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






