تیری آرزو کے چراغ تھے، کبھی بجھ گئے، کبھی جل گئے

Poet: Sain Naz Hussain Naz By: Najeeb Ur Rehman, Lahore

سرِنوک مژگاں یہ اشکِ خوں کبھی تھم گئے، کبھی ڈھل گئے
تیری آرزو کے چراغ تھے، کبھی بجھ گئے، کبھی جل گئے

کسی انجمن میں سکوں ملا نہ وہ میکدوں میں بہل سکے
رہے عمر ساری ہی بے سکوں، تیری بزم سے جو نکل گئے

مجھے راس آئی نہ زندگی، مجھے مل سکی نہ کبھی خوشی
مَیں رہینِ رنج و الم رہا، میرے روگ سینے میں پَل گئے

مَیں وہ بدنصیب ہوں دوستوں! نہیں پیار میرے نصیب میں
رہیں دل کی دل میں ہی حسرتیں، میرے دل میں ارماں مچل گئے

میرے ہیں نصیب میں گردشیں، میری زندگی میں سکوں نہیں
میرے خواب سارے بکھر گئے، میرے گیت آہوں میں ڈھل گئے

وہی سُن سکے نہ میری فغاں، میرے درد و غم، میری داستاں
دلِ سنگدل نہ پگھل سکا، میرے غم سے پتھر پگھل گئے

مجھے شاخِ ہستی سے توڑ کر، میرے رنگ و خوشبو نچوڑ کر
میرے مہرباں، میرے باغباں کفِ پا سے مجھ کو مَسل گئے

تیرے حُسن پہ جو پڑی نظر، ہوئے دو جہاں سے ہی بے خبر
تمہیں دیکھتے ہی تو مر مٹے، تمہیں دیکھتے ہی مچل گئے

مَیں محبتوں کا سفیر ہوں، مَیں مسرتوں کا فقیر ہوں
ملیں عمر بھر مجھے نفرتیں، کیوں نصیب میرے ہی جَل گئے

جنہیں اشک جان کے آنکھ سے، تُو نے بے رُخی سے گرا دیا
تیری بزم ناز سے چل دیئے، تیری زندگی سے نکل گئے

Rate it:
Views: 914
05 Jul, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL