تیری دنیا سے جانا چاہتا ہوں

Poet: عتیق مہدی By: عتیق مہدی, Bhakkar

تیری دنیا سے جانا چاہتا ہوں
تلخ ماضی بھلانا چاہتا ہوں

تیری یادیں ہی میرا سب کچھ ہے
اپنا سب کچھ لٹانا چاہتا ہوں

تیرے در کی حسین چوکھٹ پر
سانسیں اپنی لٹانا چاہتا ہوں

دل سے بیتے دنوں کی یادوں کو
ایک پل میں مٹانا چاہتا ہوں

چند لمحے عطا کریں مجھ کو
حال دل کا سنانا چاہتا ہوں

اپنا کاندھا ادھار دیں مجھ کو
چند آنسو بہانا چاہتا ہوں

تم کو قلب و جگر کی مسند پر
عمر ساری بٹھانا چاہتا ہوں

کتنا پاگل ہوں، کیسے ممکن ہے
آپ کو بھول جانا چاہتا ہوں

وہ جو وجہِ حیات ہیں میری
آپ کے خط، جلانا چاہتا ہوں

دل اگر چاہے تو منا لینا
آج میں روٹھ جانا چاہتا ہوں

تیرے نازک نفیس قدموں سے
اپنا آنگن سجانا چاہتا ہوں

اپنا سر رکھ کے تیرے قدموں میں
جان اپنی گنوانا چاہتا ہوں

Rate it:
Views: 329
07 Nov, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL