جا بھول جا مجھے بھول جا
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTداستان ترک محبت نہ دہرا مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
جا بھول جا مجھے بھول جا مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
جیون کے یہ جو دو پل ہیں آسان ہیں چاہے مشکل ہیں
میرے مہرباں انہیں نہ چرا مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
اس جگ کے رنگین ویرانے میں تجھ سے بچھڑ کر زمانے میں
میں جیسے بھی ہوں جی رہا مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
دید دے یا نہ دے دلبر اجنبی اتنی گزارش ہے مگر
در یار سے مجھے نہ اٹھا مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
چوٹ عشق کے لگے زخم ہیں اے طبیب سب فضول تیرے مرہم ہیں
نادان بے اثر ہے تیری ہر دوا مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
تیری خوشی کی خاطر میرے ہمنوا نہیں کہنا کچھ اس کے سوا
تیرا وہ راستہ میرا یہ راستہ مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
جو جی چاہے حضور کر لیکن امتیاز کو اور نہ چور چور کر
صرف اتنی سی ہے التجا مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






