قطرہ قطرہ زہر
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTمیری بربادیوں کا جشن مناتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے
اشک آنکھوں میں میری آتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے
یہ ریت تو چلی آتی ہے صدیوں سے میری جاں
گھر دوسروں کا جلاتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے
زخمی کر کے خنجر سے میرے جسم کا کونہ کونہ
رستے زخموں پہ نمک لگاتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے
خود تو کرتے ہیں بسر راتیں پھولوں کی سیج پر
ہمیں کانٹوں پہ سلاتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے
دے کے صدمہ جدائی کا سجا کر محفل احباب یہاں
چین دو دلوں کا چراتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے
مجھے رلا کے ستا کے امتیاز چھین کر ہوش میرے
قطرہ قطرہ زہر پلاتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






