قطرہ قطرہ زہر

Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOT

میری بربادیوں کا جشن مناتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے
اشک آنکھوں میں میری آتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے

یہ ریت تو چلی آتی ہے صدیوں سے میری جاں
گھر دوسروں کا جلاتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے

زخمی کر کے خنجر سے میرے جسم کا کونہ کونہ
رستے زخموں پہ نمک لگاتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے

خود تو کرتے ہیں بسر راتیں پھولوں کی سیج پر
ہمیں کانٹوں پہ سلاتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے

دے کے صدمہ جدائی کا سجا کر محفل احباب یہاں
چین دو دلوں کا چراتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے

مجھے رلا کے ستا کے امتیاز چھین کر ہوش میرے
قطرہ قطرہ زہر پلاتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں زمانے والے

Rate it:
Views: 603
27 Jan, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL