جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan

"ہر دور میں ہوتی رہی طاقت کی پرستش"
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش

سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش

ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش

محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش

حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش

جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش

وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
 

Rate it:
Views: 76
04 Apr, 2026
More Life Poetry