جب بچھڑے تھے ہم تو بہت دیر مسکرایا تھا
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATجب بچھڑے تھے ہم تو بہت دیر مسکرایا تھا
ہاں یہ وہی شخص ہے جس نے ہمیں رلایا تھا
نمی اور درد ان آنکھوں میں بڑھتے دیکھ زرا
خلوص آفریں! کیا اسلیے ہمیں ہنسایا تھا..؟
جب کہہ گیا تھا ہمیں چند لمحے انتظار کا تو
اس کے بعد کسی نے...... وقت نہیں بتایا تھا؟
ہم تیرے بعد کھڑے.... تنہائیوں میں شرمندہ
بس یہی سوچتے ہیں.... "آخر وہ کیوں آیا تھا؟"
ہم قفس توڑ کر چلے آے تھے..... صدا پر تیری
خود لوٹنا ہی تھا..... تو ہمیں پھر کیوں بلایا تھا
یہ ہماری خشک خاک، کسی اور راہ کا غبار تھی
وہ تیرا عشق تھا ..... جو ہمیں .. یہاں پہ لایا تھا
تو جانتا تھا تعبیر اس کی کبھی نہیں ممکن
ہم نادانوں کو پھر .... یہی خواب کیوں دکھایا تھا
اندھیرے بڑھا رہے ہیں اضطراب.... میری چندا
لوٹ آ.. دیکھا ہم نے اتنا تو نہیں ستایا تھا؟
ہم مسافر وہ جو دن رات سفر میں رہتے تھے
ہیں آج... اب بھی وہیں.... تو نے جدھر گرایا تھا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






