جب بچھڑے تھے ہم تو بہت دیر مسکرایا تھا

Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRAT

جب بچھڑے تھے ہم تو بہت دیر مسکرایا تھا
ہاں یہ وہی شخص ہے جس نے ہمیں رلایا تھا

نمی اور درد ان آنکھوں میں بڑھتے دیکھ زرا
خلوص آفریں! کیا اسلیے ہمیں ہنسایا تھا..؟

جب کہہ گیا تھا ہمیں چند لمحے انتظار کا تو
اس کے بعد کسی نے...... وقت نہیں بتایا تھا؟

ہم تیرے بعد کھڑے.... تنہائیوں میں شرمندہ
بس یہی سوچتے ہیں.... "آخر وہ کیوں آیا تھا؟"

ہم قفس توڑ کر چلے آے تھے..... صدا پر تیری
خود لوٹنا ہی تھا..... تو ہمیں پھر کیوں بلایا تھا

یہ ہماری خشک خاک، کسی اور راہ کا غبار تھی
وہ تیرا عشق تھا ..... جو ہمیں .. یہاں پہ لایا تھا

تو جانتا تھا تعبیر اس کی کبھی نہیں ممکن
ہم نادانوں کو پھر .... یہی خواب کیوں دکھایا تھا

اندھیرے بڑھا رہے ہیں اضطراب.... میری چندا
لوٹ آ.. دیکھا ہم نے اتنا تو نہیں ستایا تھا؟

ہم مسافر وہ جو دن رات سفر میں رہتے تھے
ہیں آج... اب بھی وہیں.... تو نے جدھر گرایا تھا

Rate it:
Views: 564
03 Apr, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL