جب بھی درویشی دل کا مراقبہ ٹوٹتا ہے
Poet: Mubeen By: Mubeen, Islamabadجب بھی درویشی دل کا مراقبہ ٹوٹتا ہے
آرزو کا جنگلی کانٹا نرم گھاس پر اگتا ہے
خورشید چمکتا تو ہے صحن چمن میں بھرپور
مگر کبھی کبھی آگے سے گہرا بادل گزرتا ہے
ربط جب ٹوٹتا ہے اپنے اصل مرکز سے
ہلاکو کا لشکر بغداد شہر کو روندتا ہے
یہ گردش جہاں اصل روح ہے کائنات کی
دیکھئے خدا کب اس روح کو کھینچتا ہے
چلو گے جتنا بھی زمیں پر اسی میں دھنس جاؤ گے
صرف کمال عشق ہے کہ ثریا تک پہنچتا ہے
سورج کا نور جب چھلکتا ہے کھڑکیوں سے
اندھیرا خود بخود کونوں میں چھپتا ہے
باتوں میں درویش کی ہوتا ہے اثر اتنا
کہ سینہ سنگ سے بھی جھرنا پھوٹتا ہے
بڑے جہاز ڈوب جاتے ہیں سمندر کی طے میں
اک ننھا سا تنکا بھلا کبھی ڈوبتا ہے
آتش ہے کہ جلا ڈالتی ہے ہر چیز کو
مگر خلیل الله سا ایمان کہاں جلتا ہے
مچھلی نگل لے جس چیز کو وہ نوالہ بن جائے
قدرت الہی سے یونس کیسے زندہ نکلتا ہے
گستاخ و سرکش عبرت بنتا ہے دنیا کیلئے
فرعون کا جسم قیامت تک مثال بنتا ہے
ہوائیں جب چلتی ہیں صحراؤں پر
ریت کا سمندر بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے
یہ بحر ظلمت منتظر ہے ایسی طغیانی کا
سونامی جس کے آگے پانی بھرتا ہے
شہیدوں کی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی
روز شفق میں خون شہدا کا رنگ جھلکتا ہے
ازل سے موج در موج چلتا رہتا ہے
یہ دریا زندگی کا ساگر میں گرتا ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






