جب بھی ہم ہجر ترا دل میں سجانے نکلے

Poet: FARZAN MANSOOR By: FARZAN MANSOOR, bahrain

جب بھی ہم ہجر ترا دل میں سجانے نکلے
کتنے آنسو تھے جو چاہت کے بہانے نکلے

مدتوں بعد کئی زخم سہانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نکلے
چند سوکھے ہوئے پتے بھی سرہانے نکلے

اب ہو چکا ہوں گرفتار محبت اس ۔۔۔۔۔ کا
یار نکلے بھی تو کب مجھ کو بتانے ۔۔۔ نکلے

خود فراموشی “ فراموشی یہاں ہے اب تو
شہر میں کوئی تو مجھ کو بھی ستانے نکلے

منحرف ہوں میں روایات محبت کا اب
میرا ہم دم ہے جو‘ وہ ہاتھ بٹانے نکلے

کار دنیا میں بھی ناکام محبت ٹھہرے
تیری فرقت میں جو ہم عشق کمانے نکلے

لوگ فرزان مجھے کہتے رہے دیوانہ
لوگ تا دیر مرے حق میں سیانے نکلے

Rate it:
Views: 505
28 Jul, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL