جب تِیر چل گیا، تو کماں بھی نہیں رہی

Poet: lost soul By: Haseeb Khan, karachi

جب تِیر چل گیا، تو کماں بھی نہیں رہی
لگتا تھا جیسے جسم میں جاں بھی نہیں رہی

سارے حَسِین بیچتے پِھرتے ہیں شہر میں
جنسِ وفا، اب ایسی گراں بھی نہیں رہی

وہ مسکرا کے پوچھتے تھے مُدعائے دل
اور اپنے منہ میں جیسے زباں بھی نہیں رہی

خواہش، وصالِ یار کی، زندہ ہے آج بھی
لیکن، یہ پہلے جیسی جواں بھی نہیں رہی

اُس سے بچھڑ کے آئینہ دیکھا تو یوں لگا
ہاتھوں میں اپنے عمرِ رواں بھی نہیں رہی

شہرِ ستمگراں میں، پناہ ڈھونڈئیے کہیں
شہرِ اماں میں، جائے اماں بھی نہیں رہی

اُس کے لبوں پہ، میری محبت کے واسطے
اِنکار بھی نہیں تھا، تو ہاں بھی نہیں رہی

رسمِ وفا تو اگلے زمانوں کی بات ہے
اب اپنے بیچ، رسمِ جہاں بھی نہیں رہی

حیدر اب اپنی عادتیں، اَطوار، ٹھیک کر
ابا بھی چل بسے، تری ماں بھی نہیں رہی

Rate it:
Views: 801
26 Apr, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL