جب کبھی میری یاد آئے تو
Poet: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottinghamجب کبھی میری یاد آئے
تو نیم شب میں اپنی آرام گاہ سے آٹھ کر
دور اپنی نظریں ڈالنا
اگر کوئی چراغ جلتا ہوا دکھائی دے
تو جان لینا وہ میرا دل ہے
تمہاری نظر پڑتے ہی وہ آئے گا
اگر نہ آئے
مگر ایسا ہو ہی نہیں سکتا
کہ تم کسی پر نظر ڈالو
تو وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے
جب کبھی میری یاد آئے تو
آواز کرتی ہوئی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں مہکتی ہوئی فضاؤں میں تمہیں ملوں گا
اپنے آنگن کے پھولوں میں مجھے ڈھونڈنا
میں صدف جیسے اوس قطروں میں تمہیں ملوں گا
اگر فضاؤں میں خوشبوؤں میں آسمانوں میں نہ پاو مجھے
تو اپنے قدموں کے نیچے دیکھنا
میں اسی جا خاک میں تمہیں ملوں گا
اگر کہیں پہ جلتا ہوا چراغ دیکھو
تو جانا کہ میں بھی اسی چراغ سے جل کر راکھ ہوا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے اس راکھ کو دریا میں ڈال دینا
میں خاک ہو کر سمندروں میں جا ملوں گا
کسی سنسان کنارے پہ ٹھہر کے تمہارا انتظار کروں گا
اگر تم کبھی سفر کے دوران وہاں سے گزرو گے
تو آواز دے دینا میں تم سے ملر کر پھر
اسی نہ ختم ہونے والے سفر پہ چلا جاوں گا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






