جدائی مار دیتی ہے

Poet: By: Azhar Iqbal Butt, Karachi

بچھڑ کر اب ہر پل جدائی مار دیتی ہے
تیری یاد سے بچ جاؤں تنہائی مار دیتی ہے

اگر وفا ملے تو زندگی بھی جنت لگتی ہے
پاگل کر دیتی ہے بے وفائی مار دیتی ہے

وقت مقرر ہے واپس لوٹ جانے کا مگر
موت سے پہلے درد کی گہرائی مار دیتی ہے

سنا ہے آجکل اسے مسیحا کہتے ہیں لوگ
کہتے ہیں کہ جو وہ دے دوائی مار دیتی ہے

دور دور رہنے سے تعلق جلد بگڑتے نہیں
حد سے بڑھ جائے اگر شناسائی مار دیتی ہے

دل نہ توڑنا کبھی مجھے ایک دیوانے نے کہا
ٹوٹے دل سے نکلی ہوئی دہائی مار دیتی ہے

میری دنیا میں نہ آنا آج کے بعد کبھی تم
چرب زبان ہونے کی اکثر برائی مار دیتی ہے

دکھوں کے دشت میں بھٹکتے رہے سدا اظہر
جہاں بھی سن لوں شہنائی مار دیتی ہے
 

Rate it:
Views: 1705
27 Dec, 2007
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL