جل رہا ہوگا
Poet: Aslam Jalali By: Aslam Jalali, Karachiگل کرنے سے پہلے چراغ کسی زندگی کا سوچ لینا
تمہارے گھر بھی تمہارا کوئی دیا جل رہا ہوگا
آزاد کردو پرندوں کو اپنے گھر کے پنجروں سے
جنگلوں میں کوئی انکے انتظار میں مچل رہا ہوگا
بارشوں میں گری بستیوں میں راستے نہ بنایا کرو
مٹی کا یہ ڈھیر بھی کسی غریب کا محل رہا ہوگا
گھروندے جو یہ ٹوٹے ہوئے ہیں چٹانوں پر جابجا
بتا رہے ہیں کہ یہاں بھی کبھی سا حل رہا ہوگا
جو ملتا ہے راستہ میں صبح و شام چاک گریباں
تمہارا چہرہ بتا رہا ہے کہ تمہارا گھائل رہا ہوگا
راہ و رسم رکھیں بھِی تو کس سے رکھِیں کہ اب
مشکل ہے بہت آدمی کا ملنا کبھی سہل رہا ہوگا
یونہی تو نہیں ہوتا ہے عذاب بنکے قحط نازل
کاٹے گئے تھے کل جودرخت انپر پھل رہا ہوگا
سونہ جاناں کہِیں سکون شہر کو دیکھ کر تم
خوش فہمی نہ رہے سانپ کھال بدل رہا ہوگا
شہر کا شہر نکل آیا ہے پتھر لیئے ہاتھوں میں
شاید امیر شہر آج اپنے گھر سے نکل رہا ہوگا
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






