جل رہا ہوگا
Poet: Aslam Jalali By: Aslam Jalali, Karachiگل کرنے سے پہلے چراغ کسی زندگی کا سوچ لینا
تمہارے گھر بھی تمہارا کوئی دیا جل رہا ہوگا
آزاد کردو پرندوں کو اپنے گھر کے پنجروں سے
جنگلوں میں کوئی انکے انتظار میں مچل رہا ہوگا
بارشوں میں گری بستیوں میں راستے نہ بنایا کرو
مٹی کا یہ ڈھیر بھی کسی غریب کا محل رہا ہوگا
گھروندے جو یہ ٹوٹے ہوئے ہیں چٹانوں پر جابجا
بتا رہے ہیں کہ یہاں بھی کبھی سا حل رہا ہوگا
جو ملتا ہے راستہ میں صبح و شام چاک گریباں
تمہارا چہرہ بتا رہا ہے کہ تمہارا گھائل رہا ہوگا
راہ و رسم رکھیں بھِی تو کس سے رکھِیں کہ اب
مشکل ہے بہت آدمی کا ملنا کبھی سہل رہا ہوگا
یونہی تو نہیں ہوتا ہے عذاب بنکے قحط نازل
کاٹے گئے تھے کل جودرخت انپر پھل رہا ہوگا
سونہ جاناں کہِیں سکون شہر کو دیکھ کر تم
خوش فہمی نہ رہے سانپ کھال بدل رہا ہوگا
شہر کا شہر نکل آیا ہے پتھر لیئے ہاتھوں میں
شاید امیر شہر آج اپنے گھر سے نکل رہا ہوگا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






