جن سے ملنے کی تمنا ہے

Poet: Abdul Nasir Jamal By: Abdul Nasir Jamal, London

جن سے ملنے کی تمنا ہے وہ ملتے ہی نہیں
پھول خواہش کے چمن میں کبھی کھلتے ہی نہیں

کس نے دیکھا ہے شب غم میں پریشان ہونا
یہ المناک سے پل آج گزرتے ہی نہیں

نہ سنا ہم کو اے صبا شوخی گل کے افسانے
ایسا گھائل ہے دل بیتاب کہ زخم سلتے ہی نہیں

یوں تو دنیا میں ہر اک لمحہ تغیر ہے مگر
دل میں بس جاتے ہیں جو منظر تو پھر بدلتے ہی نہیں

محفلوں میں نہ ہی تنہائی میں ہے قرار ہمیں
دل کے ارمان سنبھالے سے سنبھلتے ہی نہیں

ہے میرا حوصلہ اے دوست کہ ابھی زندہ ہوں میں
ڈوب کر ایسے سفینے تو پھر ابھرتے ہی نہیں

دل کا سودا جو کرے دل تو اسے دل نہ سمجھ
دل کے سودائی تو اپنی زباں بدلتے ہی نہیں

کون کس پہ لٹائے گا متاع دل ناصر
فیصلہ حسن کے منصف تو کبھی کرتے ہی نہیں

Rate it:
Views: 769
21 Sep, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL