جو نظر ہے مطمئن ہے جو نفس ہے شادماں ہے

Poet: Shakeel Badayuni By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

جو نظر ہے مطمئن ہے جو نفس ہے شادماں ہے
کہ بقیدِ جور پیہم کوئی مجھ پہ مہرباں ہے

تیری اک نظر کا حاصل عدم و وجودِ جاں ہے
کہیں زندگی کا عالم ، کہیں مرگِ ناگہاں ہے

تیرے حسن ضو فگن سے یہ فروغِ گلستاں ہے
نہ ہو جس میں تیرا پرتو وہ بہار بے خزاں ہے

میری گفتگو نمایاں ہے بغیر گفتگو بھی
میں سناؤں حالِ دل کیا کہ نظر ہی خود زباں ہے

میرے، تیرے، سوزِ دل کا نہیں بوالہوس تقابل
میری آگ میں شرر ہیں تیری آگ میں دُھواں ہے

کبھی پاؤں لڑکھڑائے تو کہا یہ مجھ سے دل نے
وہ چمک رہی ہے منزل وہ غبارِ کارواں ہے

جو ہو اذنِ اہلِ گلشن تو میں ہر کلی سے کہہ دوں
تیرا مضمحل تبسم، میرے ذوق پر گراں ہے

رہوں ترکِ معصیت پر میں شکیلؔ کیسے قائم
ابھی دل میں ولولے ہیں، ابھی آرزو جواں ہے

Rate it:
Views: 980
13 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL