جو نظر ہے مطمئن ہے جو نفس ہے شادماں ہے
Poet: Shakeel Badayuni By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIجو نظر ہے مطمئن ہے جو نفس ہے شادماں ہے
کہ بقیدِ جور پیہم کوئی مجھ پہ مہرباں ہے
تیری اک نظر کا حاصل عدم و وجودِ جاں ہے
کہیں زندگی کا عالم ، کہیں مرگِ ناگہاں ہے
تیرے حسن ضو فگن سے یہ فروغِ گلستاں ہے
نہ ہو جس میں تیرا پرتو وہ بہار بے خزاں ہے
میری گفتگو نمایاں ہے بغیر گفتگو بھی
میں سناؤں حالِ دل کیا کہ نظر ہی خود زباں ہے
میرے، تیرے، سوزِ دل کا نہیں بوالہوس تقابل
میری آگ میں شرر ہیں تیری آگ میں دُھواں ہے
کبھی پاؤں لڑکھڑائے تو کہا یہ مجھ سے دل نے
وہ چمک رہی ہے منزل وہ غبارِ کارواں ہے
جو ہو اذنِ اہلِ گلشن تو میں ہر کلی سے کہہ دوں
تیرا مضمحل تبسم، میرے ذوق پر گراں ہے
رہوں ترکِ معصیت پر میں شکیلؔ کیسے قائم
ابھی دل میں ولولے ہیں، ابھی آرزو جواں ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






