جو چاند تاروں کو روشنی دے ، وہی خدا ہے، وہی سدا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجو چاند تاروں کو روشنی دے ، وہی خدا ہے، وہی سدا ہے
میں کیسے کہہ دوں کہ آندھیوں میں چراغ کوئی نہیں جلا ہے
وہ کون ہیں جو یہ جن کو ملتی ہیں آرزوئیں بہار بن کر
مجھے تو اپنا یہ سارا گلشن لہو میں ڈوبا ہوا ملا ہے
نئی سحر کے حسین سورج ترا غموں سے ہے واسطہ کیا
تو اپنی دنیا پہ راج کر لے کہ میرا جگنو ہی بجھ گیا ہے
یہ سب کے آنگن میں نفرتیں ہیں یہ بد دلی ہے ،عداوتیں ہیں
جدا ہے چہرہ ، بدن جدا ہے، کوئی بھی اک سا نہیں رہا ہے
تمہارے روشن خیال و خد نے نہ جانے کیساہے کھیل کھیلا
نہیں ہے رخ پر حجاب باقی نہ آنکھ میں اب کوئی حیا ہے
بنے گی دلہن ، رچے گی مہندی نہ جانے کب اس کو کیا پتہ ہے
سسک رہی ہے غریب بیٹی ضعیف والد بھی رو رہا ہے
کہیں بھی ہو حادثہ وطن میں ہمیں ہیں ملزم ہمیں ہیں مجرم
ہے کون ملزم ہے کون مجرم کسی سے اب کچھ نہیں چھپا ہے
یہ اپنی آنکھوں کا نور دے کر یہ اپنے ہونٹوں کا رزق کھو کر
اداس چہرے سوال آنکھیں یہ مجھ کو شہرِ وفا ملا ہے
وہ تیر و تلوار اور خنجر چھپا کے پھرتے ہیں آستیں میں
چھپا کے رکھتے ہیں زخم وشمہ کہ ہم کو ان سے یہی ملا ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






