جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
Poet: صبا اکبرآبادی By: اشھد, Quettaجوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
یہ اک ایسی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
ہمارے اور تمہارے واسطے میں اک نیا پن تھا
مگر دنیا پرانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
عیاں کر دی ہر اک پر ہم نے اپنی داستان دل
یہ کس کس سے چھپانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
جہاں دو دل ملے دنیا نے کانٹے بو دئے اکثر
یہی اپنی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
محبت ہم نے تم نے ایک وقتی چیز سمجھی تھی
محبت جاودانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
گزاری ہے جوانی روٹھنے میں اور منانے میں
گھڑی بھر کی جوانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
متاع حسن و الفت پر یقیں کتنا تھا دونوں کو
یہاں ہر چیز فانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
ادائے کم نگاہی نے کیا رسوا محبت کو
یہ کس کی مہربانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






