جو ہمارے سفر کا قصہ ہے
Poet: صبا اکبرآبادی By: اشھد, Islamabadجو ہمارے سفر کا قصہ ہے
وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے
صبح تک ختم ہو ہی جائے گا
زندگی رات بھر کا قصہ ہے
دل کی باتیں زباں پہ کیوں لاؤ
گھر میں رہنے دو گھر کا قصہ ہے
کوئی تلوار کیا بتائے گی
دوش کا اور سر کا قصہ ہے
ہوش آ جائے تو سناؤں گا
چشم دیوانہ گر کا قصہ ہے
چلتے رہنا تو کوئی بات نہ تھی
صرف سمت سفر کا قصہ ہے
جیتے جی ختم ہو نہیں سکتا
زندگی عمر بھر کا قصہ ہے
شام کو ہم سنائیں گے تم کو
شب غم کی سحر کا قصہ ہے
تیرے نقش قدم کی بات نہیں
صرف شمس و قمر کا قصہ ہے
دامن خشک لاؤ پھر سننا
یہ مری چشم تر کا قصہ ہے
چند تنکے نہ تھے نشیمن کے
باغ و شاخ و شجر کا قصہ ہے
حلق میں چبھ رہے ہیں کانٹے سے
لب پہ گل ہائے تر کا قصہ ہے
میری بربادیوں کا حال نہ پوچھ
ایک نیچی نظر کا قصہ ہے
اسی بیداد گر سے کہہ دے صباؔ
اسی بیداد گر کا قصہ ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






