جو ہمارے سفر کا قصہ ہے

Poet: صبا اکبرآبادی By: اشھد, Islamabad

جو ہمارے سفر کا قصہ ہے
وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے

صبح تک ختم ہو ہی جائے گا
زندگی رات بھر کا قصہ ہے

دل کی باتیں زباں پہ کیوں لاؤ
گھر میں رہنے دو گھر کا قصہ ہے

کوئی تلوار کیا بتائے گی
دوش کا اور سر کا قصہ ہے

ہوش آ جائے تو سناؤں گا
چشم دیوانہ گر کا قصہ ہے

چلتے رہنا تو کوئی بات نہ تھی
صرف سمت سفر کا قصہ ہے

جیتے جی ختم ہو نہیں سکتا
زندگی عمر بھر کا قصہ ہے

شام کو ہم سنائیں گے تم کو
شب غم کی سحر کا قصہ ہے

تیرے نقش قدم کی بات نہیں
صرف شمس و قمر کا قصہ ہے

دامن خشک لاؤ پھر سننا
یہ مری چشم تر کا قصہ ہے

چند تنکے نہ تھے نشیمن کے
باغ و شاخ و شجر کا قصہ ہے

حلق میں چبھ رہے ہیں کانٹے سے
لب پہ گل ہائے تر کا قصہ ہے

میری بربادیوں کا حال نہ پوچھ
ایک نیچی نظر کا قصہ ہے

اسی بیداد گر سے کہہ دے صباؔ
اسی بیداد گر کا قصہ ہے

Rate it:
Views: 599
15 Feb, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL