جینے کی سکت

Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala

مجھ میں جینے کی سکت اب باقی نہیں
بوجھ اور اُٹھا پاوَں ایسی خواہش اب باقی نہیں

جس کے ہونے سے تھی قائم دنیا میری
وقت پلٹا رشتے اُلجھے نسبت اُن سے اب باقی نہیں

اب بکھروں یا سمٹوں کون ہامی اپنا
دنیا کی رغبت جینے کی تمنا اب باقی نہیں

بگڑی کچھ ایسے اُن سے دور ہو گئے وہ مجھ سے
وقت کی ایسی ضرب لگی پھر سے اُٹھنے کی ہمت اب باقی نہیں

ہر طرف اندھیرا سا حائل میں سہما سا گھم سم
موت کی آندھی ہے شاملِ حال اور کچھ اب باقی نہیں

ملن کی آس میں ننگے پاوَں چلا بہت دور تلک
اب آس ہی روٹھ چکی مسافت بھی تواب باقی نہیں

سسک سسک کے دم ٹوٹ رہا ہے شایداب جانا ہوگا
نہ کوئی ہمدم ہے نہ ہی ہمکلام رُکنے کی حسرت اب باقی نہیں

Rate it:
Views: 662
10 Oct, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL