حال دل
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiدل نے اپنے آپ میں کچھ چیزیں چھپائے رکھی تھی
اپنے ارمانوں کی کچھ یادیں بسائے رکھی تھی
ان ارمانوں نے کیا حال کیا تھا میرا
وہ نیندوں کا چین، وہ ہر وقت مسکرانا
وہ باتیں کرنا، وہ قہقہیں لگانا
سب لے جاچکے تھے میرے ارمان سارے
میں تو خاموشی اور تنہائی کا راہی بن کر
اپنے ان ارمانوں کو بھلانے بیٹھا
اپنے ان ارمانوں کو یکجا کر کے
دل کے کونے میں تڑپتے چھوڑا
اور پھر
اک ٹوٹے ہوئے رشتے کو پھر سے جوڑا
بیٹھ کر حال دل سنایا اس کو
ہم نے تسکین میں پایا دل کو
اور اک مدت ہم نے سب بھلائے رکھا
اور پھر
جن ارمانوں کو میں نے دل کے
کسی گوشے میں تڑپتے چھوڑا تھا
وہ ارمان میرے میں تھے ہی نہ تھے
ناجانے کب میرے وہ ارمان پورے ہوئے
بس اک ہی ارمان میرے دل میں بچا
وہ تو ارمان نہیں تھا وہ تھا میرا خدا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







