حالات بدلنے کی کوشش میں نوجوان کی رب سے صدا
Poet: AbuAbdul By: Jamshed, Dubaiمیرے الله، میرے مالک مجھے ایک کام کرنا ہے
میں نے اپنی سی کر لی ہے تیاری جتنی کرنی تھی
تھی جتنی سمجھ مجھ کو وہ لگا دی راہ سجھانے میں
بدلنے ہیں حالات اپنے، تبھی کچھ خاص کرنا ہے
نہیں ملتا کوئی اپنا، سبھی لگتے پرایے ہیں
وہ اپنی منفی باتوں سے ، بہت ہی دل دکھاتے ہیں
بہت امیدیں جوڑی ہیں میرے گھر والوں نے مجھ سے
مجھے خوشحال ہو کر اپنے گھر میں خوشیاں لانی ہیں.
کراے کا ہے گھر میرا ، راشن ادھار لاتے ہیں
کرنی بہنوں کی شادی بھی، بھائیوں کو پڑھانا ہے
امی مصروف گھریلو کاموں میں، ابو بیمار رہتے ہیں
کروا کے انکا علاج اچھا ، پھر دونوں کو حج کروانا ہے
سارے کام نبٹا کے جب تھوڑا سیٹ ہو جاؤں گا
پھر میں اپنی سوچوں گا ، نیا بائیک خریدوں گا
پھر مجھ کو شادی کرنی ہے ، اپنا گھر بھی بسانا ہے
یہ سارے خواب ہیں میرے، کہ جن کو میں نے پانا ہے
میرے الله میں ڈرتا ہوں بڑھانے سے قدم اپنا
کہ اب دل دھڑکتا ہے پیچھے ہٹنے کو کرتا ہے
مجھے اب عمل کرنا ہے، ذرا رستے پے چڑھنا ہے
تبھی تم سے دعا میری ، سچے دل سے صدا میری
مجھے تم حوصلہ دے کے ، میری ہمت بڑھاؤ نا
میرا مقصد بلند رکھ کے ، مجھے اوپر چڑھاؤ نا
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






