حرف باطل میں پھر تمیز کی شناخت کون کرے

Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithi

حرف باطل میں پھر تمیز کی شناخت کون کرے
تقدیروں کا کھیل ہے اس میں تفاوت کون کرے

یہاں تو انتشار ویرانیاں تقسیم ہوتی رہی ہیں
صبر میں سلطانی ہو تو بغاوت کون کرے

کم قدری تو ہے، لیکن خفگی سے دل بہلاتے ہیں
بڑے اختیار رلائیں گے یہ عداوت کون کرے

تم مہو ہو یہ ترویج تیرے نینوں سے ٹپکتی ہے
عشق نے عیاں کیا نہیں تو یہ ذلالت کون کرے

خلل سے پہلے کراہیت نہیں تھی اس دنیا سے
جنوں غالب بھی ہوگیا تو اب ملامت کون کرے

ہم کہیں صدا چھوڑکر کتراکے نہیں گذرے سنتوشؔ
یہاں خود کو صدائے بازگشت کی علامت کون کرے

 

Rate it:
Views: 968
19 Jan, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL