حروف ابجد
Poet: غلام حضور شاہ By: maqsood hasni, kasurالف کلا ہے کافی تینوں
ب بہتے یار نہ بنائیں توں
ت ترس ہووے من دے اندر
ث ثمر بہشتیں کھائیں توں
ج جدائیاں کدے نہ پین تینوں
ح حق حلال دی کھائیں توں
خ خوف خدا دا رکھیں دل دے اندر
د دکھ وی کدے نہ پائیں توں
ذ ذکر کریں توں اوس مولا دا
ر رمز ایس دی انوکھی پائیں توں
ز زر تے زور دا مان نہ رکھیں
س سکھ دا وقت لنگھائیں توں
ش شان ملے گا بہتا تینوں
ص صبر دا سبق پکائیں توں
ض ضد دی بکل اندر نقصان ڈاہڈا
ط طرف نیکی دے جائیں توں
ظ ظلم نہ کریں توں دنیا اندر
ع عقل نال گل سمجھائیں توں
غ غلطیاں دا ہے انسان پتلا
ف فرض توں نہ وٹ متھے پائیں توں
ق قول زبان دا کریں پکا
ک کدے قول نہ یار بھلائیں توں
ل لین گے تیتھوں حساب قبر اندر
م منکر نکیر نہ منوں بھلائیں توں
ن نیکیاں کر لئے جہان اندر
و ویکھ پرکھ کے یار بنائیں توں
حق حلا ل جے کھائیں بندیا
ی یاری سچے الله نال لائیں توں
غلام حضور شاہ تینوں پیا سمجھاوے
کرکے عمل چنگے من دا سکھ پائیں توں
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






