حق

Poet: AHMAR HASSAN AHMAR By: Syed Ahmar Hassan Rizvi, karachi

تمھارے کچھ نہیں تھے پھر بھی تم پر حق تو رکھتے تھے
بہت روٹھے مگر ملنے کی کوئی شق تو رکھتے تھے

ہزاروں بار ہم نے تم پہ اپنا حق جتایا تھا
بہت بدنام تھیں پھر بھی تمہں اپنا بنایا تھا

مگر یہ کیا کیا تم نے کہ سب کچھ لوٹ کر جانم
اخیری داو کے پتوں پر اپنا حق جتا ڈالا

کہ جییسے بادلوں کے بیچ سب کچھ ہار کر اپنا
چکو ری نے فلک کے چاند کو اپنا بنا ڈالا

نہ اب میں چاند ہوں تیرا نہ تو میری چکوری ہے
بس اتنا جان لے اسِ شبَ ہی میری سینہ زوری ہے

سحر کل کی نہ جانے کتنے ہی دل پھر اجاڑے گی
چکوری چاند پر پہلے کی طرح حق جمالے گی

سہانی زندگی کے خواب کو لے کر کوئی لڑکی
اخیری داو کے پتوں پر اپنا حق جتا لے گی

کہانی یہ یونہی چلتی رہے گی روزِ محشر تک
یہاں تک کہ لحد اک دن ہمیں مہماں بنا لے گی

Rate it:
Views: 616
31 May, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL