حیا ت گُم گشتہ--نو
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi کیا یاد تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
ا ک لڑ کی جو اُ د ا س سی تھی ا و ر لڑ کا غم کا ما را تھا
پہنچ کے د و سر ے مُلک وُہ لڑ کا کھو یا کھو یا ر ہتا تھا
تنہا ئی میں بس وُہ ا پنے د ل سے با تیں کر تا تھا
جس میں لڑ کی ر ہتی تھی
آ نکھو ں میں لئے شمعیں ر و شن
وُہ ر ا ہ میں اُ س کے بیٹھی تھی
وُ ہ آ نکھیں ا یک سو ا لی تھیں
لو ٹ کے گھر کب آ وئ گے
سو ا ل ا ن آ نکھو ں کا مہمیز سا ث اق بت ہو تا ہے
لڑ کے کو ہو ش میں لا تا ہے
لڑ کا پھر تعلیم میں ا پنی پو را مگن ہو جا تا ہے
ر ا ہ میں ا س کے حا ئل کئی د لکش پھند ے ہو تے ہیں
کا ٹ کے ا ن ر نگیں پھند و ں کو لڑ کا صا ف نکلتا ہے
ر ا ہ تکتی اُ ن آ نکھو ں کی لا ج ہمیشہ ر کھتا ہے
ہر ا یک سمسٹر میں لڑ کا کو ر س ذ یا دہ لیتا ہے
لڑ کی کو ملنے کی تڑ پ میں ہر ا ک دُ کھ کو سہتا ہے
آ خر کا ر وُہ لڑ کا علم کی ا علی ڈ گر ی لیتا ہے
یعنی شر ط و صل لیلی جلد مکمل کر تا ہے
خو ب محل تعمیر کئے د ل میں لڑ کا
لو ٹ کے گھر کو آ تا ہے
کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی پا کستا ن میں تھی ا و ر لڑ کا جو پر د یس میں تھا
(جا ر ی)
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






