حیا ت گُم گشتہ--نو
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi کیا یاد تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی تھی ا ک لڑ کا تھا
ا ک لڑ کی جو اُ د ا س سی تھی ا و ر لڑ کا غم کا ما را تھا
پہنچ کے د و سر ے مُلک وُہ لڑ کا کھو یا کھو یا ر ہتا تھا
تنہا ئی میں بس وُہ ا پنے د ل سے با تیں کر تا تھا
جس میں لڑ کی ر ہتی تھی
آ نکھو ں میں لئے شمعیں ر و شن
وُہ ر ا ہ میں اُ س کے بیٹھی تھی
وُ ہ آ نکھیں ا یک سو ا لی تھیں
لو ٹ کے گھر کب آ وئ گے
سو ا ل ا ن آ نکھو ں کا مہمیز سا ث اق بت ہو تا ہے
لڑ کے کو ہو ش میں لا تا ہے
لڑ کا پھر تعلیم میں ا پنی پو را مگن ہو جا تا ہے
ر ا ہ میں ا س کے حا ئل کئی د لکش پھند ے ہو تے ہیں
کا ٹ کے ا ن ر نگیں پھند و ں کو لڑ کا صا ف نکلتا ہے
ر ا ہ تکتی اُ ن آ نکھو ں کی لا ج ہمیشہ ر کھتا ہے
ہر ا یک سمسٹر میں لڑ کا کو ر س ذ یا دہ لیتا ہے
لڑ کی کو ملنے کی تڑ پ میں ہر ا ک دُ کھ کو سہتا ہے
آ خر کا ر وُہ لڑ کا علم کی ا علی ڈ گر ی لیتا ہے
یعنی شر ط و صل لیلی جلد مکمل کر تا ہے
خو ب محل تعمیر کئے د ل میں لڑ کا
لو ٹ کے گھر کو آ تا ہے
کیا یا د تجھے بھی آ تے ہیں
ا ک لڑ کی پا کستا ن میں تھی ا و ر لڑ کا جو پر د یس میں تھا
(جا ر ی)
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






